The Blood filled bowl
- ابن ابی حاتم نے صدی بن عجلان سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاؤ اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کر دوں میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا اتفاقا ایک روز ایک روز ایک پیالا خون کا بھر کر میرے سامنے آبیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھ سے کہنے لگے او صدی تم بھی کھا لو میں نے کہا غضب کر رہے ہوں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں تب تو وہ سب سے میری طرف متوجہ ہوگئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہ آیت پڑھ کر سنا دی ترجمہ کیا ہے-
- تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو اللہ کے سوادوسرے کے نام پر مشہور کیا گیا
وہ سبھی بیان فرماتے ہیں میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور ان کے پیغام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے آزمائش کی گھڑی سر پر ایک دن جب میں سخت پیاس ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے تھوڑا سا پانی پلا دو لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا بلکہ کہا ہم تو تجھے یوں ہی پیاسا تڑپا تڑپا کر ماریں گے میں غم ناک ہو کر دھوپ میں جلتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کمبل میں پر ڈال کر سخت گرمی کی حالت میں گر پڑا اتفاق میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لیے ہوئے اور میں اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار اور پینے کی چیزیں ڈالی ہوئی میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا وہی آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیازس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پیاس ہی نہیں لگی یہ لوگ میرے جاگنے کے بعد آپس میں کہنے لگے آخر میں تمہاری قوم کا سردار ہے تمہارا مہمان بن کر آیا ہے اتنی بے رخی ٹھیک نہیں کہ ایک گھونٹ پانی بھی ہم اسے نہ دیں چنانچہ اب یہ لوگ میرے پاس کچھ لے کر آئے میں نے کہا اب مجھے کوئی حجت نہیں ہے میرے رب نے کھلا پلا دیا یہ کہہ کر میں نے اپنا بڑا ہوا پیٹ دیکھایا اس کرامت کو دیکھ کر وہ سب مسلمان ہو گئے
Comments
Post a Comment