Posts

Showing posts with the label Stories

The Lady cooked for God

Image
ایک بوڑھی عورت تھی جو تندور پر روٹیاں پکاتی تھی ایک رات ایسا ہوا کہ وہ سوئی اور خواب میں اللہ کا دیدار ہو گیا ایک نور چمکا اس نے پوچھا کون فرمایا تمہارا رب ہوں اَسی سال کی بوڑھی منہ میں  دانت نہیں اور بال بھی سفید              پوچھا مانگ کیا مانگتی ہے کہا مجھ جیسی گنہگارہ پہ اتنا کرم کہ رب خواب میں آگیا کیا مانگوں کچھ نہیں چاہئے فرمایا ہم تو کچھ دینگے مانگ۔بولی دینا ہی چاہتا ہے   تواولاد بھی نہیں شادی بھی نہیں ہوئی دولت بھی نہیں چاہیے دن میں دو روٹی کھاتی ہوں تو ہی تو دیتا ہے یہ ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی بھی ہے سر چھپا لیتی ہو تو پھر کیا چاہیے لیکن تو بار بار کہہ رہا ہے کہ کیا چاہیے مانگ تو مانگ لیتی ہوں۔ تو بس تم مہمان بن کر آؤ میں تمہارے واسطے روٹی پکاؤگی تم کھاؤ اور چلے جاؤ فرمایا اچھا ہم کل آئیں گے صبح بوڑھی عورت اٹھی پورے گاؤں میں کہتی پھیرے ہمارے گھر تو اللہ آرہے ہیں میں دعوت پکا رہی ہو جو دیکھ کے بولے پاگل ہو گئی ہو تم تندور کی گرمی سر چڑھ گئی ہے بوڑھی ہوگئی ہے پاگل کیسی باتیں کرتی ہے اللّہ آئگا کہاں ذات باری تعالیٰ اس کی...

The Blood filled bowl

Image
ابن ابی حاتم نے صدی بن عجلان سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاؤ اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کر دوں میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا اتفاقا ایک روز ایک روز ایک پیالا خون کا بھر کر میرے سامنے آبیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھ سے کہنے لگے او صدی تم بھی کھا لو میں نے کہا غضب کر رہے ہوں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں تب تو وہ سب سے میری طرف متوجہ ہوگئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہ آیت پڑھ کر سنا دی ترجمہ کیا ہے- -  تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو اللہ کے سوادوسرے کے نام پر مشہور کیا گی ا وہ سبھی بیان فرماتے ہیں میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور ان کے پیغام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے آزمائش کی گھڑی سر پر ایک دن جب میں سخت پیاس ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے تھوڑا سا پانی پلا دو لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا بلکہ کہا ہم ...

The Black Hand

Image
محمد بن یوسف فریابی سے مروی ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ابی سنان رحمتہ اللہ کی زیارت کے لیے نکلا تو جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو انہوں نے فرمایا میرے پڑوسی کا بھائی فوت ہوگیا ہے لہذا چلیں اور اس کی تعزیت کریں چنانچہ ہم اٹھے اور اس آدمی کے پاس    پہنچے تو ہم نےاس کو دیکھا بہت رورہا ہے اور شور مچا رہا ہے ہم بیٹھے افسوس  اور  اس کوتسلی دی۔ وہ نہ تو تسلی قبول کرتا اور نہ افسوس ہم نے کہا کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ موت ضروری رشتہ ہے اور اس سے کوئی چارہ نہیں تو اس نے کہا ہاں ٹھیک ہے لیکن میں اس بات پر روتا ہوں اس پر میرے بھائی کو صبح شام عذاب ہو رہا ہے ہم نے کہا کیا تم کو اللہ تعالی نے غیب پر مطلع کر دیا ہے اس نے کہا نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب ہم نے اس کو قبر میں دفن کیا اور اس پر مٹی برابر کر دی تو تمام لوگ واپس لوٹ گئے اور میں اس قبر پر بیٹھا رہا تو اچانک اس کی قبر سے آواز آئی مجھے اکیلا چھوڑ گئے کہ میں عذاب میں مبتلا ہوں حالانکہ میں نماز پڑھتا تھا روزہ رکھتا تھا چنانچہ اس کی اس بات سے مجھے رونا آیا اور میں نے اس کی قبر کو کھولا تاکہ اس کو دیکھوں تو یکایک قبر سے آگ کے شعل...